علیحدگی

“کچھ کہنا پسند کریں گی؟” :hmm میں نے عنبر کا مزاج بگڑا دیکھ کر کریدنا چاہا۔
“ہمم۔۔۔” جواب بے حد مختصر تھا۔
“ارے بولو بھی۔۔۔!” :red مجھے اس کی خاموشی سے وحشت ہوتی ہے۔
“ہاں! میں نے تمہیں ایک افسوسناک مگر کچھ انٹرسٹنگ بات بتانی ہے۔”
“یہ بات انٹرسٹنگ کی جگہ دلچسپ نہیں ہوسکتی محبِ وطن پاکستانی لڑکی؟” :p میں نے حسبِ عادت چھیڑا۔
“اوہ سوری۔۔۔ ہاں وہی۔۔۔ دلچسپ”۔
“اچھا۔۔۔ یہ سوری کیا ہوتا ہے؟” میں نے پھر تنگ کیا۔
“عاررررررررم۔۔۔ سنو نا میری بات۔” :ohgod
“اوہ۔ معافی چاہتا ہوں۔ ارشاد فرمائیے ملکہ عالیہ!” عنبر نے مجھے عجیب سی نظروں سے گھورا۔
“میں آج عروج کے ہاں گئی تھی۔”
“وہی جس کی پچھلے دنوں شوہر سے علیحدگی ہوئی؟”
“ہاں وہی۔۔۔ اور تمہیں پتا ہے نا، اس کا گھر اجڑنے میں اس کی بہن کا زیادہ ہاتھ تھا۔”
“الزام تو نہ لگاؤ عنبر۔۔۔ عروج نے خود ہی تو خلع مانگی تھی۔ آئے دن تو جھگڑا کرتی تھی شوہر سے۔”
“ہاں نا۔۔۔ لیکن وہ پھر بھی صلح کے لیے تیار تھی مگر اس کی بہن نے اس کو بھڑکایا کہ اب اس شخص کے ساتھ تمہارا گزارا نہیں ہوسکتا اور جب اس کا شوہر اسے لینے آیا تو عروج کی بہن نے اس کے شوہر کو گھر سے نکال دیا اور علیحدگی کرواکر ہی چھوڑی۔” :alas
“آہ تم خواتین بھی نا۔۔۔ کسی کا گھر آباد نہیں دیکھا جاتا کیا؟” میں نے طنز کیا۔
“تم چپ رہو۔۔۔ اچھا۔۔۔” عنبر نے آنکھیں دکھائیں۔ میں مسکراتا رہا۔
“اچھا۔۔ اس سب میں تمہاری “انٹرسٹنگ بات” کہاں ہے؟” :p عنبر نے دوبارہ گھورا۔
“پتا ہے عارم۔۔۔ بات کیا ہے۔۔۔ آج میں گئی تو پتا چلا کہ عروج کی بہن نے عروج کی علیحدگی کرواکر خود شادی کرلی۔”
“کس سے؟؟؟” :noway میری آنکھیں پھٹی رہ گئیں۔
“عروج کے شوہر سے۔” عنبر نے جواب دیا۔

October 30, 2008 | صدائے عارم | 8 تبصرے »

دو شبد

تراویح اور وتر کے بعد جب لوگ مسجد سے رخصت ہونے لگے تو میں امام صاحب کے پاس گیا، ان سے ہاتھ ملایا اور کہا کہ ماشاء اللہ آپ تلاوت بہت اچھی کرتے ہیں، آپ کے پیچھے نماز پڑھنے کا سرور آتا ہے۔ امام صاحب کی آنکھیں احساسِ تشکر سے پُر ہوگئیں۔ نظریں جھکائے “شکریہ” کہا۔ میں لوٹ آیا لیکن مجھے یقین ہے، میرے دو تعریفی جملوں کے اثرات اور امام صاحب کے احساسات تحریر میں بیان نہیں ہوسکتے۔

کچھ عرصہ پہلے میرے کمپیوٹر کا مانیٹر مسئلہ کررہا تھا جس کی وجہ سے ٹی۔وی/ مانیٹر ٹھیک کرنے والے کے پاس کافی چکر لگے۔ ایک دن میں پہنچا تو ٹیکنیشن نہیں تھا اور دکان پر کام کرنے والا صرف ایک کم عمر بچہ موجود تھا جس کی عمر کوئی 13 سال کے قریب ہوگی۔ محلہ کا کوئی ہم عمر لڑکا اس کا مذاق اڑانے لگا جس پر اس کی ہاتھا پائی ہوگئی۔ میں نے دونوں کو الگ کیا اور دوسرے لڑکے کو ڈانٹ ڈپٹ کر بھگایا۔ پھر اس لڑکے سے پوچھنے لگا کہ یہاں کیوں کام کرتے ہو؟ اپنی خوشی سے کرتے ہو کہ گھر والوں نے لگایا؟ پڑھتے ہو کہ نہیں؟ اور اسی طرح کی باتیں۔ وہ اپنے گھر والوں کی وجہ سے یہاں کام کررہا تھا کہ کچھ کام سیکھ لے، پیسے کمالے۔ ظاہر ہے اتنی سی عمر میں کون ہوگا جو خود سے محنت مزدوری کرنا چاہے گا۔ پڑھتا بھی تھا شاید پانچویں یا چھٹی جماعت میں۔ میں اسے سمجھانے لگا کہ دیکھو، تمہیں بالکل شرمندگی نہیں ہونی چاہئے کہ تم کہیں کام کررہے ہو۔ تمہیں تو فخر ہونا چاہئے کہ تم اپنے گھر والوں کا ہاتھ بٹارہے ہو، اتنی سی عمر میں ان کا سہارا بنے ہو۔ اگر کوئی تمہارا مذاق اڑائے تو بالکل پریشان نہ ہونا، تم یقینا اس سے بہتر ہو۔ الفاظ کے جادو کا اثر اس کے چہرے کے تاثرات سے ظاہر تھا۔

الفاظ میں بہت طاقت ہوتی ہے۔ دو برے جملے کسی بندے کا حوصلہ ختم کرسکتے ہیں، کسی شخص کو مایوس کرسکتے ہیں اور دو اچھے، تعریفی یا حوصلہ افزائی کے جملہ ایک ہارے ہوئے انسان کے دل میں جیتنے کا جوش اور جذبہ بیدار کرسکتے ہیں۔ افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں اس طرف توجہ کم ہی دی جاتی ہے بلکہ حوصلے پست کرنے والی باتیں تو سب آسانی سے کردیتے ہیں لیکن حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سب کی جان جاتی ہے۔

کسی کی تعریف یا حوصلہ افزائی کرتے ہوئے یہ ہرگز نہ سوچیں کہ وہ آپ سے بڑا ہے یا چھوٹا۔ اپنی ستائش سننا ہر انسان کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔ جائز اور معقول تعریف کرنے سے نہ صرف سامنے والے کو خوشی کا احساس ہوگا بلکہ اس کے دل میں آپ کے لیے بھی محبت کا جذبہ بیدار ہوگا۔

میں نے اپنے ہاں اکثر ایک ٹیکسی کھڑے دیکھی ہے جس کا ڈرائیور نوجوان لڑکا ہے، چہرے سے پڑھا لکھا اور سلجھا ہوا لگتا ہے۔ میں جب بھی اس کے پاس سے گزرتا ہوں، میرا دل کرتا ہے کہ اسے گلے لگاؤں اور کہوں کہ مجھے تم پر فخر ہے، تم لوگوں کی باتوں کی پرواہ کیے بنا یہ کام کررہے ہو۔ لیکن میں اب تک یہ نہیں کہہ سکا۔ سچ میں، تعریف کرنا اتنا آسان کام بھی نہیں۔

یہاں لوگ اپنے بارے میں اچھے الفاظ سننا تو چاہتے ہیں لیکن دوسروں کے لیے ایسے کلمات کہنے میں اپنی توہین سمجھتے ہیں جیسے شان میں کوئی فرق آجائے گا۔ یاد رکھیں کہ ایک دوسرے کا خیال رکھنے، حوصلہ افزائی کرنے اور تعریف کرنے ہی سے نہ صرف رشتوں اور تعلقات میں بہتری آتی ہے بلکہ آپ ایک انسان کو خوش کرکے نیکی بھی حاصل کرتے ہیں۔

اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور احباب کے خاص خاص دن یاد رکھیں، کب کس کو کیا کہنا ہے، کس چیز کی مبارکباد دینی ہے، کس چیز کے لیے کیسے جذبات ظاہر کرنے ہیں۔ آپ خود ایک لمحہ تصور کریں کہ آپ کا اگلے دن امتحان ہو اور اس سے پچھلی رات آپ کو کوئی کہے یا لکھے کہ امید ہے تمہارا پرچہ بہت اچھا ہوگا ان شاء اللہ، نیک خواہشات (یا بیسٹ آف لک/ گڈ لک) تو اس لمحہ آپ کتنی خوشی اور ہمت محسوس کریں گے کہ کسی نے اتنی سی بات بھی یاد رکھی۔

بھلا دو اچھے جملے بولنے میں آپ کا کیا نقصان ہے؟ کنجوسی کیوں کرتے ہیں؟ ذرا اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اور دیکھیں کہ کسی حوصلہ افزائی درکار ہے، کسے تعریف کے دو جملوں کی ضرورت ہے اور پھر جھجھکیں نہیں، آگے بڑھیں اور وہ دو شبد بول دیں جس کی اسے ضرورت ہے۔

September 27, 2008 | صدائے عارم | 9 تبصرے »

پاگل

“یہ پٹھان تو ہوتے ہی پاگل ہیں۔” :alas عنبر نے اس لہجے میں کہا کہ میں چونک گیا۔
میں اس سے پبلک ٹرانسپورٹ کے مسائل اور ڈرائیورز اور کنڈیکٹرز کی من مانیوں کا ذکر کررہا تھا۔ میری کچھ باتوں کے بعد عنبر نے پہلا جملہ ہی ایسا کہا کہ مجھے عجیب سا لگا۔
“ہاں، یہ پٹھان تو ہوتے ہی پاگل ہیں۔” میری خاموشی پر عنبر نے اپنی بات دہرائی۔
“ایسے نہیں کہتے۔” :detat میں نے منع کیا۔
“نہیں عارم، واقعی سارے پٹھان بالکل پاگل ہوتے ہیں۔ مجھے بہت غصہ آتا ہے ان پر۔” :red
“لیکن کیوووووں؟ تمہارا کیا بگاڑا ہے انہوں نے؟” :ohgod
“پتا ہے عارم۔۔۔” اب عنبر نے اپنے مخصوص انداز میں کہنا شروع کیا۔ “یہ پٹھان اس بری طرح گھورتے ہیں نا۔۔۔ نقاب کیا ہوا ہو، عبایا پہنی ہو، نظر کچھ نہیں آرہا لیکن بس گھورنا ہے۔۔۔” :qustn
“لیکن عنبر۔۔۔ یہ صرف پٹھان تو نہیں تو کرتے نا۔۔۔” میں نے پھر اسے باز رکھنا چاہا۔
“نہیں نا۔۔۔ پتا ہے، پرسوں کیا ہوا۔۔۔ نہیں، پرسوں نہیں۔ شاید دو، تین دن پہلے کی بات ہے۔۔۔ میں بس اسٹاپ پر کھڑی تھی، ایک پٹھان مجھے اتنا گھور رہا تھا، گھورے جارہا تھا۔۔۔”
“اور تم اسے گھورے جارہی تھیں۔۔۔!” :p میں نے اسے تنگ کرنے کے لیے لقمہ دیا۔
” نہیں نا۔۔۔ چپ رہو۔۔۔ پتا ہے، جس طرف سے میری بس آنی تھی نا، وہ وہیں آکر کھڑا ہوگیا تھا سامنے۔ اب میں بس کے لیے دیکھ رہی تھی اور وہ میری طرف دیکھے جارہا تھا۔ اتنا زیادہ گھور رہا تھا کہ مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ شکر ہے تھوڑی دیر میں میری بس آگئی تو میں اس میں چڑھ گئی۔ پھر پتا ہے کیا ہوااااا۔۔۔۔؟”
“کیا۔۔۔؟”
“میں نے تھوڑی دیر بعد دیکھا، وہ بھی اسی بس میں چڑھ گیا تھا۔ اور مردوں والی طرف نہیں بلکہ خواتین کی طرف ہی چڑھ کر کھڑا ہوگیا تھا اور وہاں بھی گھورے جارہا۔ مجھے اتنا ڈر لگ رہا تھا کہ پتا نہیں کون ہے یہ اور کیوں پیچھا کررہا ہے۔۔۔ پھر کنڈیکٹر اس سے کرایہ لینے آیا نا تو کرایہ بھی نہیں دے رہا اور نہ ہی یہ بتارہا ہے کہ جانا کہاں ہے۔ کہنے لگا کہ ابھی دیدوں گا آگے چل کر۔۔۔ میں نے سوچا کہ کہیں یہ اس لیے تو نہیں کررہا کہ پہلے میں کرایہ دیدوں اور اپنے اترنے کی جگہ بتاؤں تو تب یہ بھی وہی بتائے۔ تمہیں پتا ہے نا ہمارے اسٹاپ کا اوور ہیڈ برج کتنا سنسان رہتا ہے۔ میں نے تو کہا کہ اس پر سے نہیں جاؤں گی اور اگر یہ وہیں اترا تو کسی سے کہہ دوں گی کہ آپ مجھے برج کراس کروادیں، مجھے ڈر لگ رہا ہے، میں نے اکیلے نہیں جانا۔”
“پاگل۔۔۔!” :ddraeamin میں نے صرف اتنا کہہ کر ثبوت دیا کہ اس کی بات پوری توجہ سے سن رہا ہوں۔
“مجھے تو اتنا ڈر لگ رہا تھا، میں نے آیۃ الکرسی، سورتیں اور درود پڑھنا شروع کردیا فورا کہ اللہ مجھے کسی مصیبت سے بچالے۔ پھر کنڈیکٹر میرے پاس آیا تو میں نے اسے کرایہ دیدیا اور اپنا بس اسٹاپ بھی بتانا پڑا۔ پھر اس کے بعد اس نے بھی کرایہ دیدیا لیکن اترنے کی جگہ میرے اسٹاپ سے دو، تین اسٹاپ پہلے کی بتائی۔ میں نے شکر کیا کہ چلو یہ کہیں اور جائے گا۔ پھر جب اس کا اسٹاپ آیا نا تو اتر ہی نہیں رہا۔ میں نے کہا، کہیں اس نے کنڈیکٹر سے جھوٹ تو نہیں کہہ دیا۔۔۔ اترے نا۔۔۔ پھر شکر ہے تھوڑی دیر بعد اتر گیا تو میں نے چین کا سانس لیا۔ اتنا غصہ آرہا تھا نا۔۔۔ دل کررہا تھا، دو تھپڑ لگاؤں اس کے۔”
“ہممم۔۔۔” میں زیادہ تبصرہ کرنے کے قابل نہیں تھا۔ :ddraeamin
“اسی لیے میں کہہ رہی تھی کہ پٹھان پاگل ہوتے ہیں سارے۔” عنبر گھوم پھر کر دوبارہ وہیں آگئی۔
“نہیں نا عنبر۔۔۔ پگلی۔۔۔ دیکھو نا۔۔۔ اصل وجہ یہ نہیں ہے۔” مجھے علاقائی اور لسانی تعصب سے چڑ ہے۔ میں کبھی ایسی بات نہیں کرتا کہ سندھی ایسا کرتے ہیں تو مہاجر ایسے ہیں، پٹھان ایسے ہیں تو پنجابی ایسے۔ میں صرف انسان، مسلمان اور پاکستانی ہونے پر یقین رکھتا ہوں اور سب کو یہی یقین دلانا چاہتا ہوں۔ اسی لیے عنبر کے ذہن سے بھی مجھے یہ کیڑا نکالنا تھا۔
“دیکھو عنبر! بات پٹھان ہونے کی نہیں ہے۔ اصل وجہ تعلیم یافتہ نہ ہونا ہے۔ اگر کوئی ان پڑھ جاہل ہوگا نا تو وہ چاہے پٹھان ہو یا سندھی، پنجابی ہو یا بلوچی، ایسا ہی کرے گا۔ تو اصل قصور پٹھان ہونے کا تو نہیں ہوا نا۔۔۔ ویسے تو سب برابر ہیں نا۔۔۔ دیکھو، جو پڑھے لکھے پٹھان ہوں گے نا، تم ان کو دیکھ کر شاید پہچان بھی نہ پاؤ کہ یہ پٹھان ہیں۔”
“نہیں۔۔۔ لیکن سب پٹھان پاگل ہوتے ہیں، میں کہہ رہی ہوں نا۔” میں اسے آرام سے سمجھانے کی کوشش کررہا تھا اور وہ تھی کہ ایک ہی رٹ لگائے ہوئی تھی۔
“عنبرررررررر۔۔۔ اب میں ایک ہاتھ لگاؤں گا تمہیں۔ کہہ رہا ہوں نا کہ ایسے نہیں کہتے۔ سمجھ نہیں آتی تمہارے؟ :haha: مجھے غصہ آگیا۔
“ہاں لیکن میں غلط تو نہیں کہہ رہی نا۔۔۔ ایسا ہی ہے۔” وہ اپنی ضد پر قائم تھی۔ :dwh
“جیسا بھی ہے، میں نے کیا کہا؟ ایسے نہیں کہتے تو بس نہیں کہتے۔ اپنی فضول باتیں اپنے پاس رکھو۔ کہہ رہا ہوں نا کہ تعلیم اس کی اصل وجہ ہے۔”
“نہیں، میں تمہیں ایک بات بتاؤں۔۔۔” اور پھر وہ ایک رشتہ دار کی بات لے کر بیٹھ گئی جن کی شادی اپنی مرضی سے ایک پٹھان پروفیسر سے ہوئی تھی اور پھر۔۔۔ مجھے پتا تھا کہ اس نے اب کے یہی نتیجہ نکالنا تھا کہ پڑھے لکھے بھی ایسے ہی ہوتے ہیں اس لیے میں نے فورا اسے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ پروفیسرز کی بات نہ کرو نا۔۔۔ وہ تو اکثر پڑھ لکھ کر ایسے ہوجاتے ہیں۔ :wink
تنگ آکر میں نے بات کا موضوع بدل دیا لیکن شاید اس کے دماغ سے جو ایک سوچ چپک گئی ہے، اسے کسی طرح نہیں مٹاسکا۔ اس کا افسوس ہے۔

(اس تحریر کا مقصد ہرگز کسی ذات یا قوم کی مخالفت نہیں بلکہ اس سوچ پر اظہارِ افسوس اور ندامت ہے جو کچھ لوگوں کے غلط رویے کے باعث عوام میں زور پکڑ رہی ہے۔ اگر اس تحریر کے مندرجات سے کسی کی بھی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں۔)

September 15, 2008 | صدائے عارم | 6 تبصرے »

ناانصافی

شاہ جی بہت دن سے فون کررہے تھے اور گھر آکر ملنا چاہتے تھے لیکن مجھے فرصت کے لمحات ہی میسر نہیں آرہے تھے۔ ہر بار میں احساسِ شرمندگی کے ساتھ انہیں ٹالتا رہتا۔ آخر ایک دن تہیہ کیا کہ خود ہی ان کے گھر جاکر ملاقات کر آؤں۔ پہلے ہی فون کرکے انہیں آگاہ کردیا تھا۔ گھر پہنچا تو ہمیشہ کی طرح شاہ جی بہت گرمجوشی سے ملے۔ ان کے بیٹوں نے بھی آکر سلام کیا۔ پھر وہ مجھے اپنے کمرے میں لے آئے۔ ادھر ادھر کی رسمی باتوں کے بعد کہنے لگے، عارم! میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔ شاہ جی پریشان تھے، اس کا اندازہ تو مجھے ان سے فون پر بات کرکے ہی ہوگیا تھا۔ میں ان کے تھوڑا قریب ہوا۔ کچھ توقف کے بعد بولے، یار میرا بڑا بیٹا کچھ ضدی ہوگیا ہے، بات بے بات بحث کرتا ہے، کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ مجھے یہ سن کر اچنبھا ہوا۔ شاہ جی کا بڑا بیٹا ارمان بہت خوش مزاج اور بااخلاق لڑکا تھا۔ میں نے ان سے کہا کہ ارمان سے بات کرکے ہی کچھ اندازہ ہوسکتا ہے، میں اس سے بات کرکے دیکھتا ہوں۔ یہ کہہ کر کمرے سے باہر نکل آیا۔ ارمان ٹی۔وی لاؤنج میں بیٹھا ٹی۔وی کھولے چینل بدل رہا تھا۔ میں اس کے برابر میں جا بیٹھا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرایا اور حال پوچھا۔ میں اس کی پڑھائی کے بارے میں سوال کرنے لگا۔ مجھے وہ ویسا ہی خوش اخلاق ارمان دکھائی دیا۔ میں شاہ جی کے شکوہ کی حقیقت تلاش کرنے لگا لیکن ایسے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ تب میں‎ اٹھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ارمان کے چھوٹے بھائی سلمان نے آکر اس سے کچھ کہا جس پر ارمان نے انتہائی روکھے لہجے اور تیز آواز میں جواب دیا۔ سلمان منہ بناکر چلا گیا اور میں نے اٹھنے کا ارادہ بدل دیا۔

تھوڑی دیر خاموشی چھائی رہی۔ میں نے ایک لمبی سانس لے کر بات دوبارہ شروع کی: کیا ہوا ارمان؟ اتنا غصہ سلمان پر؟ ارمان تھوڑا جھینپ سا گیا۔ میں نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
“آپ کو پتا ہے بھائی، یہ بہت بدتمیز ہوگیا ہے۔ ہر وقت تنگ کرتا رہتا ہے۔ ادب احترام کچھ نہیں، سب بھول گیا ہے۔” ارمان نے شکوہ کیا۔
“لیکن وجہ کیا ہے؟ اتنا اچھا تو ہے سلمان۔”
“ہے نہیں، تھا۔ ابو کے بے جا لاڈ پیار نے اسے بگاڑ دیا ہے۔” ارمان نے جلد ہی اپنے دل کی بات بتادی۔
“غلط بات، ارمان! تمہارے ابو تم دونوں کو برابر چاہتے ہیں۔”
“نہیں۔۔۔ میں بھی ایسا ہی سمجھتا تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔ جن باتوں پر مجھے ڈانٹا جاتا تھا، ان باتوں پر اس کی طرف داری کی جاتی ہے۔ اوپر سے میں اگر اسے کچھ کہوں تو مجھے ہی ڈانٹ دیا جاتا ہے کہ ہر وقت کچھ نہ کچھ کہتا رہتا ہوں۔ چھوٹا ہے۔” ارمان کی آواز بھرا گئی۔ اس نے آنکھیں مسل کر آنسو چھپالیے۔
میں نے ارمان کی بات سن کر اس کو تھپکی دی اور زیرِ لب مسکرایا۔ اس کا شکوہ بجا تھا۔ میں نے خود شاہ جی کا ایسا رویہ دیکھا تھا لیکن تب اتنا دھیان نہیں دیا تھا اور نہ ہی خیال آیا تھا کہ اس کا ردِ عمل ایسا بھی ہوسکتا ہے۔
میں نے ارمان کو رسمی سی نصیحتیں کیں، تھوڑا وقت ادھر ادھر کی باتیں کرکے اس کو بہلایا اور پھر اٹھ کر شاہ جی کے پاس آگیا۔

شاہ جی کو جو سمجھایا، سو سمجھایا لیکن آپ کیا سمجھے؟ بظاہر ایسے واقعات من گھڑت لگتے ہیں اور شاید آپ نے اس جیسی کہانیاں پہلے بھی سن رکھی ہوں لیکن یقین جانئے، یہ حقیقت سے تعلق رکھتی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ والدین دانستہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ ظاہر ہے، ایسا غیر ارادی طور پر ہوتا ہے لیکن اس کے نتائج سخت بھی نکل سکتے ہیں۔ نوجوانی میں جذبات بھڑکے ہوئے اور خون گرم ہوتا ہے۔ بچے ایسی باتوں کا برا اثر لیتے ہیں اور بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ جنہیں ذرا بری صحبت میسر آجائے وہ گھروں سے بھاگ جاتے ہیں یا انہیں کسی نشے کی لت لگ جاتی ہے۔ دو بھائیوں یا بھائی، بہنوں کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف رنجش، کدورت، بغض اور حسد جیسے جذبات جنم لیتے ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتے جاتے ہیں۔ انہی کا نتیجہ کبھی شدید لڑائی کی صورت میں نکلتا ہے اور کبھی ترکِ تعلق کی شکل میں۔ اپنے تمام بچوں سے برابر کا پیار کریں اور صرف دل میں نہ رکھیں، بلکہ اس کا اظہار بھی ضرور کریں۔ آپ کے خاندان کو مضبوط بندھن میں رکھنے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے۔

September 15, 2008 | صدائے عارم | 3 تبصرے »

حاجی صاحب

یہاں ایک صاحب سے ہماری جان پہچان ہے۔ کافی عمر رہی ہوگی، بڑھاپے کے دور سے گزر رہے ہیں۔ نام تو ان کا کچھ اور ہے پر انہیں عرف عام حاجی صاحب کہا جاتا ہے۔ اچھا خاصا کاروبار ہے، گھر میں زیادہ افراد نہیں لیکن مال و دولت کی ہوس اس قدر کہ حیرت ہو۔

چند ماہ پہلے ان کی والدہ انتقال کرگئیں۔ ورثہ میں خاصی دولت اور جائیدار چھوڑ گئیں۔ جب وراثت کی تقسیم کا وقت آیا تو طے تھا کہ شرعی حساب سے بہنوں کو ایک حصہ اور بھائیوں کو دو حصے ملیں گے۔ لیکن ان کی ایک بہن نے دعوی کیا کہ والدہ نے اپنی زندگی میں انہیں ایک بار کہا تھا کہ تمام بھائی بہنوں کو برابر حصہ ملے لہذا اسی حساب سے تقسیم کی جائے۔ یہ سن کر تو جناب کے ہوش اڑ گئے۔ حساب لگایا تو پتا چلا کہ برابر کی تقسیم سے انہیں کئی لاکھ کا نقصان ہوجائے گا۔ اب اپنی بہن سے کہیں کہ گواہ لاؤ، کوئی دوسرا بھی قریب تھا اس وقت؟ وہ کہے کہ نہیں، صرف مجھے تنہائی میں کہا تھا۔ آرام سے ہاتھ آئی دولت یوں قربان کردینے کو ان کا دل نہ چاہے۔ اب فتوے منگواتے پھرے کہ ہماری والدہ اتنا ورثہ پیچھے چھوڑ گئی ہیں، تقسیم کے وقت ایک بہن نے ایسا ایسا دعوی کیا ہے، کیا ہم پر شرعی حساب سے ایسا کرنا لازم ہے؟

فتوی ظاہر ہے یہی تھا کہ شرعی اعتبار سے وصیت کے مطابق احکامات بجا لانا ضروری نہیں۔ اب جو انہوں نے اپنی بہنوں کو یہ فتوے دیکھائے تو وہ کہنے لگیں کہ اچھا، اگر ویسے ضروری نہیں تو آپ سب بھائی اپنی خوشی سے ہی برابر تقسیم کردو۔ اب نہ اگلتے بنے نہ نگلتے، مجبورا رشتوں کا پاس رکھنے کے لیے مروت میں برابر برابر کی تقسیم کی۔ بعد میں ساری دنیا سے اپنے اس غم کا ڈھنڈورا پیٹتے پھرے کہ میں تو اتنا غریب ہوں، میری بہنوں نے ایسا کہہ دیا تقسیم کے وقت، مجبوری تھی، دینا پڑا۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔۔۔!

مجھے بے حد حیرانی ہوئی کہ انسان دولت کے نشے میں اتنا اندھا ہوجاتا ہے کہ اس کے لیے اپنے رشتوں سے زیادہ اہم دولت ہوجاتی ہے؟ حاجی صاحب اور ان کے بھائیوں نے اپنی بہنوں کو جائیداد میں برابر حصہ دیا تو سہی، لیکن جس دل سے دیا اس کا فائدہ؟

August 27, 2008 | صدائے عارم | ایک تبصرہ »

سزا

عرصہ پہلے ایک کہانی پڑھی تھی جو اب برائے نام ہی ذہن میں رہ گئی ہے۔ جس قدر یاد ہے، اسی کی بنیاد پر کہانی بناکر لکھتا ہوں۔ دو دوستوں کو پتا چلتا ہے کہ بہت دور کہیں ویرانے میں ایک مقام ایسا ہے جہاں ہر پچاس سال بعد ایسا وقت آتا ہے کہ جب چودھویں کے چاند کی روشنی اس جگہ ایک دائرے میں پڑتی ہے تو وہاں کھڑے ہوکر جو دعا مانگی جائے، پوری ہوجاتی ہے۔ جب وہ رات قریب آئی تو دونوں دوست اس جگہ کو روانہ ہوئے اور کافی دشوار راستہ طے کرنے کے بعد وہ اس مقام پر پہنچ کر مخصوص وقت کا انتظار کرنے لگے۔

آخر وہ وقت بھی آگیا۔ جب چودھویں کے چاند کی روشنی وہاں ایک دائرے میں پڑنے لگی تو پہلے ان میں کا ایک آگے بڑھا، اس جگہ کھڑے ہوکر آنکھیں بند کیں اور دعا مانگی کہ اس کا حافظہ اتنا قوی ہوجائے کہ اسے کوئی بات نہ بھولے اور جو کچھ وہ ایک بار دیکھ لے، سن لے یا پڑھ لے، اسے ہمیشہ کے لیے یاد ہوجائے۔ دوسرا دوست آگے بڑھا اور اس نے دعا مانگی کہ اس کو ایسی قوت مل جائے جس سے وہ ہر ایک کے دل کی بات جان سکے۔

اپنی اپنی دعائیں مانگ کر دونوں خوشی خوشی اپنے گھروں کو واپس ہوئے۔ اگلے دن ہی انہیں اندازہ ہوگیا کہ ان کی دعائیں قبول ہوگئی ہیں۔ جس نے قوی حافظہ مانگا تھا، اس کا حافظہ واقعی اتنا اچھا ہوگیا کہ اسے ہر بات یاد رہنے لگی۔ دوسرے کو بھی سامنے والی کی دل کی بات پتا چلنے لگی۔ اب جو اسے ملتا، وہ اس کے دل میں جھانک لیتا کہ اس کے ظاہر و باطن میں کیا فرق ہے۔

جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، انہیں مشکلات پیش آنے لگیں۔ جس دوست کا حافظہ تیز ہوا تھا، اس کے ذہن سے چھوٹی چھوٹی باتیں چپک جاتیں۔۔۔ معمولی مسئلے، رنجشیں، سب کچھ اس کے دماغ میں گھومتی رہتیں۔ پھر اس کے ماں باپ کا ایک حادثے میں انتقال ہوگیا۔ خون میں لت پت والدین نے اس کے بازوؤں میں دم توڑا۔ وہ یہ لمحات کبھی بھلا نہیں پایا۔ ہر وقت اس کے ذہن میں یہی تصویریں گردش کرتی رہتیں۔۔۔ وہ گھنٹوں اپنے ماں باپ کی قبروں پر پڑا روتا رہتا اور آخرکار وہ پاگل ہوگیا۔

دوسرا دوست جو لوگوں کے دل کی باتیں جاننے لگا تھا، اسے بھی سخت مایوسی ہوئی۔ وہ جنہیں اپنا سمجھتا تھا، جب ان سے ملتا تو وہ بظاہر ہنس ہنس کر بڑی خوش دلی سے بات کرتے لیکن جب وہ ان کے دل کی طرف نظر کرتا تو پتا چلتا کہ ان کی سب خوش دلی اور محبت جھوٹی تھی اور ان کے دل میں بغض، حسد اور کینہ بھرا تھا۔۔۔ وہ بھی یہ صورتحال برداشت نہ کرسکا اور ذہنی مریض بن گیا۔۔۔ یوں کہانی ختم ہوئی۔

اس کہانی سے نتیجہ اخذ کرنا بڑا آسان ہے۔ آپ خود سوچیں!

August 25, 2008 | تلاشِ گوہر | 5 تبصرے »

شرم کریں

مجھے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ فون پر عبیر کی ہچکیاں سن کر ہوا ورنہ میں تو اتنی دیر سے ہاں، ہوں ہی کیے جارہا تھا۔ ایک تو جب اس کی فون کال آئی تھی تب میں تقریبا نیند میں جاچکا تھا۔ اگرچہ ایسی کالز آنا میرے لیے کوئی نئی بات نہیں اور مجھے پریشان لوگوں کی بڑھانے اور انہیں حوصلہ دینے پر دلی خوشی کا احساس ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی نیند کی حالت میں، میں خود ٹھیک سے صورتحال کا اندازہ نہیں کرپاتا۔

عبیر کا کوئی بھائی نہیں، بہنوں میں بھی سب سے بڑی ہے۔ ہماری نسل میں اولاد اور والدین کے درمیان فاصلہ بھی بہت زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے جس کے سبب بچے، والدین سے اپنے مسائل اور پریشانیاں کہتے ہوئے ہچکچاتے ہیں اور اپنے ذہنی دباؤ سے نجات حاصل کرنے کے لیے متبادل راستہ اپناتے ہیں۔۔۔ یہی سب کچھ عبیر کی بھی کہانی ہے۔

عبیر کا فون آیا تو کچھ ادھر ادھر کی باتوں کے بعد بولی:
“آج بہت برا ہوا۔ میں آج بہت تلخ تجربے سے گزری ہوں۔۔۔”
“کیوں؟ کیا ہوا۔۔۔۔ سب خیریت؟” :noway میرے سوال کی جواب میں اس نے اپنی بپتا سنائی۔
“میں آج صبح جب یونیورسٹی جانے کے لیے نکلی تو گاڑیاں ہی نہیں آرہی تھیں۔ جو اتنی دیر بعد آتی تو اس قدر بھری ہوتی کہ چڑھنے کی جگہ ہی نہیں ہوتی۔ کافی انتظار کے بعد ایک گاڑی آئی تو اس میں مجھے پائیدان پر کھڑے ہونے کی جگہ مل سکی جہاں کنڈیکٹر کھڑا ہوتا ہے۔” اس نے اتنا کہہ کر کچھ توقف کیا۔ شاید مناسب الفاظ ڈھونڈنے کے لیے۔

“عورتوں کے کمپارٹمنٹ میں بھی مرد کھڑے ہوئے تھے۔ کنڈیکٹر آیا تو مجھے کہنے لگا کہ اندر کی طرف ہوجاؤ۔ لیکن میں وہاں کیسے ہوتی؟ اتنے مرد جو کھڑے تھے اور اگر میں وہاں کھڑی ہوجاتی تو مجھے ان کے ساتھ لگ کر کھڑا ہونا پڑتا۔۔۔ میں نے کنڈیکٹر کو منع کردیا۔ ایک خاتون کہنے بھی لگیں کہ مردوں کو پیچھے کرو تو لڑکیاں کھڑی ہوسکیں گی نا لیکن کسی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ یہاں تک کہ وہ سب مرد بھی ڈھیٹ بنے کھڑے رہے۔ اگلے اسٹاپ سے چند اور لڑکیاں بھی بس میں چڑھ آئیں۔ جگہ نہیں تھی، مجبورا مجھے اندر کی طرف ہونا پڑا۔ اور۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔” اس کی آواز رندھ گئی۔ میں اندازہ کرسکتا تھا کہ پھر کسی نے کوئی چھیڑ چھاڑ کی ہوگی۔

“اچھا بس۔۔۔ روتے نہیں ہیں عبیر۔۔۔ پتا نہیں کیا ہوگا ہماری اس قوم کا۔۔۔ بہت بے حس ہوگئی ہے۔۔۔” میں نے اسے دلاسا دیتے ہوئے خود کو بے بس محسوس کیا۔

“پاپا تو گھر پر ہوتے ہیں نا صبح؟ ان سے کہہ دیا کرو کہ یونیورسٹی تک چھوڑ دیں۔ واپسی میں تو آرام سے مل ہی جاتی ہے گاڑی۔۔۔” میں نے اسے مشورہ دیا۔

“نہیں نا۔۔۔ پاپا بہت تھکے ہوتے ہیں اور صبح سورہے ہوتے ہیں۔۔۔ اچھا نہیں لگتا ان کو جگانا۔۔۔ پھر دن بھر انہیں مصروف رہنا ہوتا ہے۔۔۔”

والدین سے عبیر کی اس درجہ محبت اور خیال دیکھ کر مجھے ایک عجیب سا احساس ہوا۔ پھر وہ کہنے لگی:

“اور پتا نہیں، لڑکوں اور مردوں کو بس گھورنا ہوتا ہے۔۔۔ چاہے ہم نے نقاب ہی کیا ہوا، عبایا بھی پہنا ہو لیکن یہ گھورنے سے باز نہیں آتے۔۔۔ اتنی نظریں اپنے اندر چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں مگر میں تو کچھ کر بھی نہیں سکتی۔ مجھے تو کچھ بولنا بھی نہیں آتا۔”

میں اسے حوصلہ دینے کے لیے پتا نہیں کیا کیا باتیں کرتا رہا، کس کس طرح اسے ہمت سے ان سب چیزوں کا مقابلہ کرنے کے کہا لیکن ساتھ میرا ذہن جتنا سوچتا گیا، الجھتا گیا۔

ہم عورتوں کو برابر کے حقوق دینے کی بات کرتے ہیں، مساوات کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن حقیقی دنیا میں ہمارا رویہ کیا ہے؟ برابری تو دور، عورتوں کے لیے جہاں ہم نے کوٹہ مقرر کیا ہے، ہم تو وہ کوٹہ بھی انہیں نہیں دیتے۔۔۔ اتنے بے شرم، بے غیرت ہوگئے ہیں؟ ہماری اپنی عورتوں کے ساتھ کچھ برا ہو تو غیرت کے نام پر انہیں قتل کرڈالیں اور دوسروں کی عورتیں ہوں تو غیرت کا جنازہ نکال دیں؟

کچھ تو شرم کریں۔

August 11, 2008 | صدائے عارم | 15 تبصرے »

بھیک

میں ابھی کمپیوٹر کھول کر کچھ لکھنے کے لیے خود کو تیار کر ہی رہا تھا کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ اٹھ کر ابھی دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ اطلاعی گھنٹی (کال بیل) چینخنے لگی۔ میں نے لپک کر دروازہ کھولا۔ باہر محلے کی ایک چھوٹی بچی کھڑی تھی۔ بولی، ٹماٹر ہوں گے؟ میں نے فریج میں جھانکا، صرف دو نظر آئے، ایک اسے تھمادیا۔ کہتی ہے، زیادہ چاہئیں۔ دوسرا بھی پکڑا دیا اور کہا کہ بس یہی ہیں۔ چلی گئی۔

میں نے ایک گلاس ٹھنڈا پانی پیا اور واپس اپنی کرسی پر آبیٹھا۔ خیالات مجتمع کررہا تھا کہ موبائل فون کی گھنٹی بجی۔ ٹیکسٹ آیا تھا۔ لکھا تھا کہ “میں بہت بیمار ہوں، ہسپتال میں داخل ہوں، پلیز مجھے اس نمبر پر بیس روپے ٹرانسفر کردیں۔” میرا منہ بن گیا۔ موبائل ایک طرف پٹخ دیا (نوکیا کے موبائل فون سیٹ کافی مضبوط ہوتے ہیں نا)۔ ایسے ٹیکسٹ اکثر آتے رہتے ہیں۔

مجھے پبلک ٹرانسپورٹ میں بھیک مانگنے والے چند ایسے بھکاری یاد آنے لگے جن کے بھیک مانگنے کا انداز بہت دلچسپ تھا۔ ایک بھکاری گاڑی میں چڑھ کر آواز لگاتا تھا بلکہ آواز کیا لگاتا تھا، چینخا ہی کرتا تھا کہ “ایک روپیہ دیدو، روٹی کھاؤں گا۔ ایک روپیہ دیدو، روٹی کھاؤں گا۔” حلیہ اس قدر غلیظ ہوتا تھا کہ گھن آئے۔ ایک اور بھکاری تھا جو مجھے کئی بار نظر آیا اور وہ ہر بار یہی کہانی سناتا تھا کہ “میں فلاں کمپنی کے پاس بیٹھتا ہوں، رنگ کرنے والا ہوں، کبھی دیہاڑی لگ جاتی ہے کبھی نہیں۔ تین، چار دن سے بالکل بیکار ہوں۔ ہٹاکٹا ہوں، بھیک نہیں مانگتا، اللہ کے نام پر سوال کرتا ہوں۔ میرے بچوں کے کھانے پینے کے لیے پیسے دیدو۔” سچ کہوں تو مجھے ایسے بھیک مانگنے والوں سے زیادہ غصہ ان لوگوں پر آتا تھا جو انہیں بھیک دیدیتے تھے۔ پر، انہیں گھورنے کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

انہی سوچوں میں غلطاں تھا کہ اطلاعی گھنٹی پھر سے چینخی۔ جھنجھلا کر اٹھا اور دروازہ کھولا۔ پھر وہی بچی کھڑی تھی۔ کہتی ہے، گرائنڈ مشین چاہئے۔ سخت غصہ آیا۔ میں آج تک نہیں جان سکا کہ یہ لڑکی کس گھر سے آتی ہے، بس آتی ہے اور چیزیں لے جاتی ہے، واپس کرنے والی ہوں تو کرجاتی ہے۔ معمول ہے اس کا۔ اللہ جانے کیسے گھر والے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ میں نے اگر مشین دی تو ماما سے ڈانٹ بھی پڑ سکتی ہے لیکن بہرحال! مجھے انکار کرنا اور انکار سننا بالکل پسند نہیں۔ میں نے اسے گرائنڈ مشین تھمادی۔ وہ چلی گئ۔ دروازہ بند کرکے میں ٹی۔وی لاؤنج کی طرف آگیا۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ ایک معاشرہ میں کس قدر مختلف مزاج کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ تربیت، ماحول اور صحبت کا کتنا زیادہ اثر ہوتا ہے۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میرے لیے کسی سے کچھ مانگنا ہمیشہ سے انتہائی مشکل کام رہا ہے، چاہے اپنی ہی چیز کیوں نہ ہو۔ دوستوں کے مانگنے پر انہیں اپنی چیزیں دے تو دیتا تھا لیکن ان چیزوں کی واپسی کا سوال مجھے شرمندگی کا احساس دلاتا اور نتیجہ یہ نکلتا کہ اگر دوست واپس نہ کرتے تو میں بھی مانگ نہ پاتا اور وہ چیزیں انہی کے پاس رہ جاتیں۔ اور ہاں۔۔۔ لفٹ مانگنا۔۔۔ اکثر لوگ راہ چلتے کسی گاڑی والے سے کچھ راستہ کے لیے لفٹ لے لیتے ہیں لیکن مجھ سے یہ کام کبھی نہیں ہوسکا۔ کبھی بھی نہیں۔۔۔ کبھی ضرورت پڑتی بھی تو میں بس سوچتا ہی رہتا کہ ہاں، اب جو گاڑی آئے گی، اس کو اشارہ کروں گا لفٹ کے لیے لیکن نہ کرپاتا۔۔۔ ایک، دو بار نہیں، بیسیوں بار یہ تجربہ کرکے دیکھا۔ کسی سے کچھ مانگنا۔۔۔ کسی اپنے جیسے سے کچھ مانگنا بہت برا لگتا ہے نا! اور ہے بھی غلط۔۔۔ شاید لفٹ لینے کی حد تک تو چل ہی جاتا ہو لیکن چھوٹی چھوٹی چیزیں دوسروں سے مانگنا، دوسروں کی چیزوں پر انحصار کرنا، یہ بالکل بھی اچھی عادت نہیں۔

میں نے یہی سوچتے سوچتے ٹی۔وی کھول لیا۔ خبر آرہی تھی:
امریکی کانگریس میں پاکستان کے لیے ساڑھے سات ارب ڈالر کی امداد کا بل پیش کردیا گیا۔
پھر خبر آنے لگی: یورپی یونین نے صوبائی محکمہ تعلیم کی روکی جانے والی 39 ملین یورو کی امداد بحال کردی ہے۔

امداد۔۔۔ قرضہ۔۔۔ خیرات۔۔۔ بھیک۔۔۔ ہونہہ۔۔۔ جس قوم کو اوپر سے لے کر نیچے تک بھیک کا سہارا ہو، اس میں چھوٹے چھوٹے بھکاریوں کا کیا قصور۔۔۔؟ میں نے غصہ میں ٹی۔وی بند کردیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان قرضہ گوگل کیا کہتا ہے؟

August 06, 2008 | صدائے عارم | 12 تبصرے »

مذاق

“سوچو تو ہماری زندگی مغل شہنشاہوں سے بہتر ہے کہ وہ تو گرمی میں ہوا کے لیے بھی اتنے ملازموں کے محتاج ہوتے تھے کہ پنکھا جھلیں، ہم تو پھر بھی ایک بٹن دبائیں تو پنکھا چلنے لگتا ہے۔ لیکن ہم خدا کا شکر نہیں کرتے۔” یہ وہ جملے تھے جو میں نے گھر میں داخل ہوتے ہی بابا کی آواز میں سنے۔ یقینا پھر کسی کو سبق سکھایا جارہا تھا۔ میں نے بلند آواز میں سلام کیا اور پہلے ہی کمرے میں نظر ڈالی۔ بابا کے پاس بیٹھی عنبر نے خالی نگاہوں سے مجھے گھورا۔ میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے آنکھ ماری :wink اور اپنے کمرے میں چلا آیا۔ تھوڑی دیر بعد حسب توقع وہ بھی دوڑی آئی۔
“کیا ہے؟” اس کی طرف سے پہلا حملہ ہوا۔
“کیا مطلب، کیا ہے؟” :p میں انجان بن گیا۔ اس نے پھر آنکھیں دکھائیں۔ میں ہنس پڑا۔
“ابھی آواز لگاؤں گی بابا کو، مذاق نہ اڑاؤ نا۔۔۔” :aah
“اچھا جی اچھا۔۔۔۔ بس!” :bus
“اتنی دیر سے کیوں آئے، ہاں؟ کوئی بندہ آیا تھا ملنے۔”
“پھر۔۔۔۔؟ کون تھا؟”
“تمہیں جان سے مارنا چاہ رہا تھا۔۔۔”
“اچھا مذاق ہے۔۔۔ پھر؟”
“کیا پھر، پھر۔۔۔ پتا نہیں کون تھا۔ کوئی بات کرنا چاہتا تھا، میں نے کہہ دیا ایک گھنٹہ بعد آنا۔”
ہممم۔۔۔ :hmm میں نے تازہ دم ہونے کے لیے جسم پر پانی ڈالنے غسل خانے کا رخ کیا۔ باہر نکلا تو عنبر نے اشارے سے بتایا کہ مہمان صاحب اندر تشریف رکھتے ہیں۔ میں بال پونچھ کر کمرے میں داخل ہوا۔ ایک نوجوان لڑکا صوفے پر بیٹھا تھا۔ چہرے پر اگرچہ پریشانیوں کا جال بچھا تھا لیکن میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ میری بے چاری قوم میں ہر شخص ہی پریشان اور ذہنی دباؤ کا شکار نظر آتا ہے۔ میں نے کرسی کھینچی اور اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ سلام دعا ہوئی۔۔۔!
“جی فرمایئے۔۔۔۔ ” میں موضوع کی طرف آیا۔
“میں خود کشی کرنے والا ہوں۔” :noway نوجوان کے منہ سے غیر متوقع جملہ ادا ہوا۔
“کہئے! میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں اس سلسلہ میں؟” میں نے اس کی بات کو اہمیت نہ دی۔
“میں مذاق نہیں کررہا ہوں جناب۔”
“تو خود کشی بھی مذاق نہیں ہے میرے بھائی۔ کیا بات ہے؟ کیا ہوا ہے؟ وجہ تو پتا چلے نا۔”
“ہاں۔۔۔۔”
میں اس کی طرف سے اگلے جملہ کا انتظار کرنے لگا۔ وہ انتہائی تذبذب کی حالت میں تھا۔ چند لمحات خاموشی میں گزرے۔ وہ کچھ کہنے کے لیے لب ہلاتا لیکن جیسے آواز اس کے منہ سے باہر نہ نکلتی۔ یا شاید وہ اپنی بات کہنے کے لیے قوت جمع کررہا تھا۔ پھر یکدم اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کا ریلا بہہ نکلا۔ میں اس کی ہر حرکت کا بغور مشاہدہ کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد میں نے اٹھ کر اسے پانی دیا اور تسلی دی۔ پانی پینے کے بعد اس نے اپنی بکھری سانسیں قابو میں کرنے کی کوشش کی۔ جاری رکھیں »

July 29, 2008 | صدائے عارم | 6 تبصرے »

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

عنبر آج یونیورسٹی نہیں جاسکی تھی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کے باعث کراچی میں پہیہ جام ہڑتال ہوئی تھی۔ اس نے سارا دن شاید گھر میں ٹی وی پر خبریں دیکھ کر ہی گزارا۔

“یہ آج کی ہڑتال کیوں ہوئی؟ کسے کیا ملے گا؟” :dsadas: آخر رات کو مجھ سے عنبر کا سوال ہوا۔
“کیا ہونا ہے۔۔۔ ایک، دو دن میں گاڑیوں کے کرائے بڑھ جائیں گے۔ بس!”
“اس لیے کی تھی ہڑتال؟” :btup
“تو۔۔۔؟”
“کتنے بے شرم ہیں نا یہ۔۔۔ :wrd ان کو ذرا سا بھی احساس نہیں ہے کہ عوام بے چاری کتنی پریشان ہے۔” وہ قوم کا رونا لے بیٹھی۔
“سب ہی بے حس ہیں۔۔۔ اوپر سے لے کر نیچے تک۔۔۔” میں نے بیزاری سے کہا۔
“میرا تو دل چاہتا ہے کہ پرویز مشرف کے پاس جاؤں اور اس کو زور سے تھپڑ لگاؤں۔” :p عنبر معصومیت سے بولی۔
“ارےےے۔۔۔ اس کا کیا قصور ہے؟”
“دیکھو نا۔۔۔ اگر اس کو ذرا سی بھی پرواہ ہوتی تو وہ کچھ کرتا نا۔۔۔”
“پر یہ پرویز مشرف کا نہیں، حکمراں جماعت کا قصور ہے نا پگلی۔”
“نہیں نا۔۔۔ اس کو چاہئے کہ وہ وزیر اعظم کو بلائے، اس سے بات کرے اس بارے میں۔۔۔ کچھ تو کرنا چاہئے نا ان کو۔۔۔!” اس نے اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کیا۔
“اچھا چھوڑو بھی۔۔۔ یہ تمہیں سیاست میں کب سے دلچسپی ہوگئی ہے۔۔۔ بھاڑ میں ڈالو۔” میرا سیاست پر بات کرنے کا کوئی موڈ نہیں تھا۔
“عارم۔۔۔ ہمیں خود بھی کچھ کرنا چاہئے نا۔۔۔ میں سوچتی ہوں کہ جیسے ابھی دودھ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تو کم از کم ہم اپنے رشتہ داروں کو سمجھائیں کہ کچھ دن دودھ لینا بند کردیں، جب ان کا دودھ کوئی نہیں لے گا تو کیا کریں گے؟ پھر کم کرنی ہی پڑے گی نا قیمت۔ تب تک ڈبے کا دودھ استعمال کرلیں۔” پھر وہی معصوم سی باتیں۔
“ہاہاہا۔۔۔ یعنی اس سے بھی مہنگا دودھ؟ اچھا چلو بس۔۔۔ ختم کرو یہ باتیں۔۔۔” :dwh میں نے بات ختم کرنا چاہی پر اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
“ایسا کرتے ہیں ہم دونوں چلتے ہیں پرویز مشرف کے پاس، اس کو بتاتے ہیں سب کچھ۔”
“ہونہہ۔۔۔ کچھ نہیں ہونا ہے اس سے بھی۔۔۔” اور آخر، میں عارضی طور پر اپنی جان چھڑانے میں کامیاب ہوگیا۔

لیکن۔۔۔ ہماری جان ایسے چھوٹنی نہیں ہے۔ ہم نے کچھ کرنا ہے۔۔۔ حکمرانوں پر تنقید کرکے ہم اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش نہیں ہوسکتے۔ ایکسپریس نیوز پر “کالم کار” پروگرام آرہا تھا۔ اس میں یہ گفتگو ہورہی تھی کہ عوام کو خود بھی کچھ سوچنا چاہئے۔ پاکستان چائے برآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جہاں کے رہنے والے سالانہ چار ارب سے زائد رقم چائے پر خرچ کردیتے ہیں۔ ایسے ہی سولہ سنگھار کی زیادہ تر چیزیں درآمد کی جاتی ہیں جن پر بھاری زر مبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ ہمیں ان سب پر قابو پانا ہے، اگر ہم اپنے وطن سے مخلص ہیں تو۔

اقبال کہہ گئے ہیں:
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

July 23, 2008 | صدائے عارم | 7 تبصرے »

پچھلی »